انگلینڈکے خلاف سریزمیںآشون اورجڈیجہ کوآرام،امت مشراکی واپسی
نئی دہلی،23؍جنوری(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)انگلینڈ کے خلاف ہونے والی ٹی 20سیریزکیلئے لیگ اسپنر امت مشرااورآف اسپنرپرویز رسول کو ٹیم انڈیا میں جگہ دی گئی ہے۔ٹیم انڈیا کے مصروف شیڈول اور انگلینڈ کے خلاف سیریز میں اب تک کی مؤثر کارکردگی کو دیکھتے ہوئے سلیکٹرز نے روی چندرن آشون اور رویندر جڈیجہ کو آرام دیا اور ان کی جگہ مشرا اور رسول کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔امت مشراکی بات کریں توان کی بالنگ مہارت سے تو ہر کوئی واقف ہے۔دائیں ہاتھ کا یہ اسپنر اپنے تنوع سے کسی بھی ٹیم کے بیٹنگ آرڈر کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس لحاظ سے وہ یقینی طور پر جگہ کے حقدار تھے،تاہم کارکردگی میں استحکام نہیں ہونے کی وجہ سے وہ ٹیم سے اندرباہر ہوتے رہے ہیں۔کم ہی لوگوں کو یاد ہوگا کہ امت مشرا نے چھوٹے فارمیٹ کے اپنے گزشتہ میچ میں ہی کرشمائی بولنگ کرتے ہوئے ہندوستانی ٹیم کو یادگار جیت دلائی تھی۔اکتوبر 2016میں کھیلے گئے اس میچ میں مشرا نے کیوی بلے بازی آرڈر کو منہدم کر کے رکھ دیا تھا۔اس میچ میں امت نے محض 18رنز دے کر پانچ وکٹ لئے تھے اور ٹیم انڈیا کی 3-2کی سیریز جیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔یہی نہیں نیوزی لینڈ کے خلاف اس سیریز میں وہ مین آف دی میچ اور مین آف دی سیریز بھی رہے تھے۔
27سالہ آل راؤنڈر پرویز رسول کا انتخاب ضرور کچھ حیران کر رہا ہے لیکن جموں و کشمیر کے اس کھلاڑی نے بھی حاصل ہوئے مواقع پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔پرویز رسول دائیں ہاتھ سے ا سپن بولنگ کے علاوہ بہترین بلے بازی بھی کر لیتے ہیں۔ٹیم انڈیا کے عظیم اسپنر بشن سنگھ بیدی پرویز رسول کوقابلیت سے بھرپور بالر مانتے ہوئے ان کی تعریف کر چکے ہیں۔رسول کی بولنگ کو دھاری دار بنانے میں بیدی کا اہم تعاون رہا ہے۔ایک ون ڈے میچ میں ٹیم انڈیا کی نمائندگی کر چکے رسول کو گھریلو کرکٹ میں مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا انعام ملا ہے اور وہ یقینی طور پر اس موقع کے مستحق تھے۔رسول وکٹ ٹو وکٹ گیند بازی کرنے میں مہارت رکھتا ہے اور وہ گیند کو زیادہ فلائی نہیں کراتے۔اس لحاظ سے ون ڈے اور ٹی 20میں وہ مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
ویسے بھی گھریلو کرکٹ میں چمک دکھانے کے بعد پرویز رسول کو ٹیم انڈیا میں جگہ ملنے کی مانگ ان کی ریاست جموں و کشمیر میں زور شور سے اٹھتی رہی ہے۔یہ مطالبہ کرنے والوں میں ریاست کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ بھی شامل رہے ہیں۔سال 2013میں جب رسول کو زمبابوے کے خلاف پانچویں اور آخری ون ڈے میچ میں بھی آخری الیون میں جگہ نہیں ملی تو عمر عبداللہ نے مایوسی ظاہر کی تھی۔عمر نے ٹویٹ کیا تھا کہ کیا رسول کو زمبابوے صرف اس وجہ لے جایا گیا کہ اس کا حوصلہ گرایا جائے۔یہ کام تو ملک میں بھی آسانی سے ہو سکتا تھا۔سابق مرکزی وزیر ششی تھرور اور کھیل مبصرین ایاز میمن نے بھی اس وقت رسول کو آخری الیون میں موقع نہ دینے کے فیصلے پر سوال اٹھایا تھا۔پرویز نے اب تک ٹیم انڈیا کی جانب سے ایک ون ڈے کھیلتے ہوئے دو وکٹ حاصل کئے ہیں۔ویسے گھریلو کرکٹ کا ان کا ریکارڈ خاصا مؤثر ہے۔58فرسٹ کلاس میچوں میں وہ 38.87کے اوسط سے تین ہزار سے زیادہ رن بنا چکے ہیں جس میں آٹھ سنچری شامل ہیں۔یہی نہیں فرسٹ کلاس میچوں میں 156وکٹ بھی اس کھلاڑی کے نام پر درج ہیں۔37ٹی 20میچوں (بین الاقوامی نہیں)میں 478رنز اور 27وکٹیں بھی پرویز کے نام پر درج ہیں ۔